ایف بی آرکا تعارف
سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا قیام یکم اپریل 1924 کو سنٹرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ، 1924 کے تحت عمل میں لایا گیا ۔ 1944 میں وزارتِ خزانہ کے تحت ایک مکمل ریونیو ڈویژن قائم کیا گیا۔ آزادی کے بعد یہ انتظام 31 اگست 1960 تک جاری رہا، جب انتظامیہ کی تنظیمِ نو کے لئے قائم کمیٹی کی سفارش پر ایف بی آر کو وزارتِ خزانہ کا منسلک ادارہ بنا دیا گیا۔
1974 میں ادارے کو موثر اور اس کی ذمہ داریوں کوسہل بنانے کے لیے مزید تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ تشکیل دیا گیا، جو ایڈیشنل سیکریٹری کے برابر تھا اور سیکریٹری خزانہ سے ایف بی آر کے چیئرمین کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں ۔
22 اکتوبر 1991 کو ایف بی آر کو وزارت خزانہ کے ماتحت ریونیو ڈویژن کی حیثیت سے بحال کردیا گیا ۔اس کا مقصد انتظامی اختیارات کے مؤثر استعمال اور مالیاتی پالیسی کے اقدامات کی تشکیل اور ان کے نفاذ میں رکاوٹوں کو دور کرنا تھا ۔ تاہم جنوری 1995 میں ریونیو ڈویژن کو ختم کر دیا گیا، اور ایف بی آر کو 1991 سے پہلے والی حیثیت پر واپس منتقل کردیا گیا۔ بعد ازاں یکم دسمبر 1998 سے ریونیو ڈویژن ایک بار پھر بحال کردیا گیا، اور یہ تاحال کام کررہا ہے۔
جولائی 2007 میں ایف بی آر ایکٹ 2007 کے نفاذ کے ذریعے سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا نام تبدیل کرکے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کر دیا گیا۔

